اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق تیونس کی حکومت کے ترجمان خالد شوکات نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ شام کے بحران کے تعلق سے تیونس کی خارجہ پالیسی میں بنیادی تبدیلی آگئی ہے - انہوں نے کہا کہ تیونس کی موجودہ سفارت کاری پہلے سے زیادہ متوازن اور حقیقت پسندانہ ہے - تیونس کی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ ان کا ملک ایسے ہر منصوبے کی حمایت کرتا ہے جو شام کی ارضی سالمیت کا ضامن ہو لیکن اسے شام کے داخلی امور میں مداخلت تصور نہ کیا جائے - انہوں نے کہا کہ تیونس نے شام کے معاملات میں عدم مداخلت کی جو پالیسی اختیار کر رکھی ہے اس کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے - واضح رہے کہ دو ہزار بارہ میں اس وقت کے تیونس کے صدر منصف المرزوق نے تیونس میں شام کے سفیر کو نکال دیا تھا جس کے بعد سے شام اور تیونس کے سفارتی تعلقات منقطع ہو گئے- یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ شام اور عراق میں سرگرم دہشت گرد گروہ داعش میں تیونس کے شہری بڑی تعداد میں شامل ہیں جو دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دے رہے ہیں-
۔۔۔۔۔۔۔
/169